فوری موت سے بچنا چاہتے ہو تو افطاری میں یہ چیز ہرگز مت کھانا، ہنگامی الرٹ

کہتے ہیں انسان اپنے ہی دانتوں سے اپنی قب ر کھولتاہے۔ ماہرین کے مطابق آج دنیا میں آبادی کا ایک بڑاحصہ خوراک کی کمی کی وجہ سے بیماری اور م و ت کا شکار ہے اور دوسرا حصہ خوراک کی زیادتی کی وجہ سے ۔ دنیا بھر کے مسلمان آج کل ماہ رمضان منا رہے ہیں۔ یقیناً آپ بھی منا رہے ہوں گے۔ اور اسلامی علوم کے ماہرین کہتے ہیں۔ کہ جو لوگ روزہ رکھتے ہیں۔

وہ صبح سے شام تک کھانا پینا ترک کرکے روحانی اور جسمانی فوائد حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ ایک روحانی تجربے سےبھی گذرتےہیں۔ خوراک موجود ہونے کے باوجود وہ بھوک پیاسے رہنےسے ان لوگو ںمیں شامل ہوجاتے ہیں۔ جن کے پاس خورا ک نہیں ہوتی۔ لیکن کیا وجہ ہے کہ بہت سے لوگوں کا وزن رمضان ختم ہونے پر پہلے سے بھی زیادہ ہوجاتاہے۔ طبی ماہرین کے مطابق موٹاپا ، شوگر اور دل کے امراض سمیت کئی بیماریوں کی وجہ بن سکتا ہے۔ جس طرح ہم سارے پیسے کماتے ہیں۔ ان میں سے خرچ کرنے کے بعد جو بچ جاتا ہے وہ ہمارے پاس جمع ہوجاتاہے ۔ بالکل اسی طرح جو غذا کھاتے ہیں۔ ان میں سے جو توانائی ہم استعمال کرلیتے ہیں اور اس کے بعد بچ جانے والی توانائی ہمارے جسم میں جمع ہوکر ہمارے وزن بڑھانےکی وجہ بنتی ہے۔ ہم آپ کو بتائیں گے کہ سحرو افطار میں آپ کون کون سی چیز کھائیں۔

اور کونسی چیز آپ کے لیے نقصان دہ ہے۔ مختلف لوگ کام کرتے ہیں ۔ اور ان سب کا اپنا اپنا کام اور اہمیت ہوتی ہے۔ بالکل اسی طرح انسانی جسم میں غذائیت کا اپنا پنا کام اور اہمیت ہوتی ہے ۔ اس لیےضروری ہے کہ غذائیت سے بھرپور متوازن کھانا کھایا جائے ۔ متوازن غذا کی تعریف میں پھل ، سبزی، دودھ اور دودھ سے بنی چیزیں گ وشت، مچھلی ، مرغی ، اناج یہ سب چیزیں آتی ہیں۔ یعنی سب طرح کی چیزیں کھانی چاہیے نہ کہ صرف ایک چیزیں کھائیں۔ ڈاکٹرکے مطابق پانی کااستعمال بھی موسم کے لحاظ اتنا کرنا چاہیے ۔ کہ انسان کا پیشاب پانی کے رنگ کا ہو۔ اور پیلے پیشاب کا مطلب ہے کہ انسان کم پانی پی رہا ہے۔ وہ لو گ جن کو کوئی بیماری ہو خصوصاً شوگر یا دل کے امراض کے مریض انہیں معالج کے مشورے کھانا پینا چاہیے۔ رمضان میں صحت مند رہنے کے لیے سحری اور افطاری میں کیا کھایا جائے ۔

گ وشت ،مچھلی ، مرغی اور انڈے کا استعمال اپنی صحت اور بیماری کو سامنے رکھتے ہوئے اور دودھ اور دودھ سے بنی چیزوں کو بھی استعمال کیا جانا چاہیے۔ پھل خصوصاً کھجور بھی استعمال کیا جاسکتاہے جبکہ پانی کا استعمال زیادہ کیا جانا چا ہیے۔ اب آپ کو بتاتے ہیں وہ کونسی چیزیں ہیں جن کو سحری وافطار میں پرہیز کریں ۔ تاکہ آپ کا نہ صرف روزہ برقرار رہے ۔ آپ کا سارادن انتہائی خوش گوار گزرے گا۔ آپ کو طبی حوالے سے بھی مسائل کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔ اکثر سحر ی اور افطاری کے وقت زیادہ پانی پی لیتےہیں۔ اور سوچے سمجھے بغیر مرغن اور روغنی کھانوں کو استعمال کرنے سے ذرا بھی نہیں ہچکچاتے۔ بلکہ بڑے ذوق وشوق سے روغنی غذائیں تناول کرتے ہیں۔ حالانکہ غذائی ماہرین اس سے منع کرتے ہیں۔ روغنی غذاؤ ں کی وجہ سے دن میں آپ کے لیے روزہ رکھنا مشکل ہوسکتاہے۔

افطار کے وقت ٹھنڈ اپانی پینا یہ بھی بری عادتوں میں شما ر کیا جاتاہے ۔ اور روزے دارکو اس سے گریز کرنا چاہیے۔ افطار کے فوراً بعد میٹھی اشیاء کھانا بھی کوئی اچھی عادت نہیں ہے۔ اگر آپ کو ایسی کوئی عادت ہے تو فوری طور پر اسے ترک کردینا چاہیے۔ علا وہ ازیں مصالحوں او رنمک کا استعمال اگر آپ کثرت سے کرتےہیں۔ چکنائی سے بھر پور غذائیں اگر آپ زیادہ کھاتے ہیں۔ اور گیس والے مشروبات پیتے ہیں۔ تویہ تمام ایسی حرکات ہیں۔ جن کو رمضان میں تبدیل کیاجاناچاہیے۔

Sharing is caring!

Comments are closed.