رمضان کی سحری میں یہ دعا تین بار پڑھیں،دولت کی ایسی بارش برسے گی کہ سات نسلیں کھائیں گی

روزہ وہ عظیم فریضہ ہے جس کو رب ذوالجلا ل نے اپنی طرف سے منسوب فر ما یا ہے اور ق ی ا م ت کے دن رب تعالیٰ اس کا بدلہ اور اس کا اجر بغیر کسی واسطے کے بذات خود روزے دار کو عنایت فرما ئیں گے اللہ نے اپنے بندوں کے لیے عبادات کے جتنے بھی طریقے بھی بتائے ہیں ان میں کوئی نہ کوئی حکمت پوشید ہو تی ہے نماز خدا کو حاصل کرنے کا ذریعہ ہے اس میں بندہ اپنے خدا سے گفتگو کر تا ہے آج ہم آپ کو رمضان المبارک کی پہلی سحری کا بہت مبارک عمل بتانے جا رہے ہیں جس عمل کی بر کت سے اللہ تعالیٰ لا جواب نعمتوں کو حاصل کیا جا سکتا ہے۔

یہ عمل ایک بہت ہی پیاری سی دعا کا ہے یہ دعا کونسی ہے اور اس کا طریقہ کار کیا ہے یہ جاننے سے پہلے آپ لوگوں سے گزارش ہے کہ ہماری باتوں کو بہت ہی زیادہ غور سے سنیے گا تا کہ کسی بھی قسم کا کوئی بھی مسئلہ نہ ہو عمل یہ ہے کہ آپ نے سحری میں ایک گھنٹہ پہلے اٹھنا ہے اور وضو کر کے دو رکعت صلوۃ تہجد پڑھنی ہے اور نماز ادا کرنے کے بعد آپ نے آسمان کی طرف منہ کر کے یہ دعا بارہ دفعہ پڑھنی ہے ۔ لا الہ الا اللہ الحی القیوم القائم علی کل نفس بما کسبت یہ دعا آپ نے آسمان کی طرف منہ کر کے بارہ دفعہ پڑھنی ہے۔

اور اللہ تعالیٰ سے رزق کی فراوانی کے لیے دعا کرنی ہے اپنے جسمانی اور روحانی ترقی کے لیے دعا کر یں جس مقصد کے لیے بھی آپ دعا کر نا چاہتے ہیں مانگ لیں اور پھر سحری کر لیں آپ دیکھیں گے اس عمل کی بر کت سے آپ کو اسی مہینے میں اس عمل کی بر کا ت نظر آ نا شروع ہو جا ئیں گی اور اللہ سےآ پ نے جو دعا مانگی ہو گی وہ ضرور قبول ہو گی یہ مہینہ بہت ہی بر کتوں والا اور رحمتوں والا ہے امید کر تے ہیں کہ میں اور آپ اللہ کی رحمتوں اور بر کتوں کو سمیٹے گے اور اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے والے لوگوں میں ہمارے نام بھی شامل کیے جا ئیں گے۔

آمین۔ ماہ رمضان المبارک کی عظیم الشان مہمانی کے روح پرور لمحات ایک بار پھر آ پہنچے اور دنیا کے گوشہ ؤ کنار میں جہاں جہاں بھی مسلمان موجود ہیں چاہے وہ کسی بھی قوم و ملت اور مذہب و مسلک سے تعلق رکھتے ہوں ہرجگہ اور ہر طرف سعادت و برکت کے دسترخوان بچھ گئے ہیں روزوں کے ساتھ قیام و قعود ، رکوع و سجود ،دعا ؤ مناجات اورتلاوت قرآن کے دسترخوان ،یہ ایام روزمرہ کی زندگي کے شوروغل سے نکل کر سرور و شادمانی سے معمور دلنشین و دلنواز حسین حقیقتوں سے متصل ہو جانے کی دعوت دے رہے ہیں۔ ماہ مبارک کی آمد کا یہی وہ مبارک و مسعود دن تھا جب تقریبا چودہ سو سال قبل مسجد النبی (ص) کے بلند و بالا منبر سے مرسل اعظم حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اپنی امت کو یہ خوش خبری سنائی تھی

Sharing is caring!

Comments are closed.