رمضان کی دوسری جمعرات سحری کھانے سے پہلے چند بار پڑھ لیں ، 10کروڑ قرض بھی ہو تو 3دن میں اتر جائے گا

دعا ہے کہ اللہ آپ کو خیریت سے رکھے۔ خدائے رحمٰن عزوجل کا شکر ہے اور احسان ہے کہ اس نے ماہِ رمضان المبارک جیسی عظیم الشان نعمت سے سرفراز کیا ہے۔ ماہِ رمضان کے کیا کہنے۔ اس کی تو ہر گھڑی رحمت بھری ہے اس مہینے میں اجر و ثواب بہت ہی بڑھ جا تا ہے نفل کا ثواب فرض کے برابر اور فرض کا ثواب ستر گنا بڑھا دیا جا تا ہے بلکہ اس مہینے میں تو روزہ دار بہت ہی اہمیت کا حامل ہو جا تا ہے عرش اٹھانے والے فرشتے روزے دار کی دعاؤں پر آمین کہتے ہیں۔

اور ایک حدیث پاک کے مطابق رمضان کے روزے دار کے لیے دریا کی مچھلیاں دعائیں مانگتی ہیں۔ پیاری بہنو اور بھا ئیوں رزق میں بر کت اور قرض سے نجات کے لیے نہایت ہی مجرب عمل ہے آپ کی خدمت میں حاضر ہے اگر سحری کھانے سے کچھ دیر پہلے آپ نے یہ عمل کر لیتے ہیں تو پہاڑ کے برابر قرض بھی ایسے اترے گا کہ جیسے آپ کو پتہ بھی نہیں چلے گا اللہ غیب سے فر ما دیں گے آپ کا انتظام۔ جو لوگ قرض کی دلدل میں پھنسے ہو ئے ہیں یہ وظیفہ ان کے لیے ہے۔

آپ نے عمل اس طرح سے کر نا ہے آپ نے نمازِ تہجد ادا کرنے کے بعد دو نفل صلوۃ الحاجت کی نیت سے ادا کرنے ہیں پھر جا ئے نماز پر بیٹھ کر یہ کلمات سو مرتبہ پڑھنے ہیں۔ اللھم اکفنی بحلالک عن حرامک واغننی بفضلک عمن سواک یہ کلمات سو مر تبہ پڑھ کر اللہ عزوجل سے اپنے مسائل کے لیے دعا کریں تو آپ کے جو جتنے بھی مسئلے مسائل ہوں گے وہ حل ہو جا ئیں گے اور اس کے ساتھ ساتھ آپ کا جو مالی قرض ہو گا وہ بھی ادا ہو جا ئے گا کہنے کا میرا مقصد ہے کہ جن لوگوں کو قرض اتارنے کی پریشانی ہے ان لوگوں کے لیے یہ وظیفہ بہت ہی زیادہ خاص ہے۔

اگر وہ اس وظیفے کو کر لیتے ہیں تو اس وظیفے کے کرنے سے انکو بہت ہی زیادہ فائدہ ہونے والا ہے۔ اللہ ہمیں دنیاوی مشکلات اور آ خ رت کی مشکلات سے محفوظ فر ما ئیں اور ہمیں یہ عمل کرنے کی توفیق عطا فر ما ئیں۔ جن لوگوں پر قرض چڑھا ہوا ہے ان لوگوں کے لیے یہ وظیفہ بہت ہی زیادہ مجرب ہے ان کے لیے یہ وظیفہ یوں سمجھ لیں کہ ان کے لیے جنت ہے اگر جنت سے انسان محروم ہو جا ئے تو آپ خود ہی بتائیے کہ اسے کیسا محسوس ہو گا؟ تو ہمیں چاہیے کہ ہم اس جنت کو حاصل کر یں ۔ اس جنت کو حاصل کرنے کے لیے ہمیں ایک چھوٹا سا ہی عمل کر نا ہو گا۔ اور وہ عمل پہلے ہی میں بتا چکی ہوں بہت ہی آسان عمل ہے ۔

Sharing is caring!

Comments are closed.