ہر تیسرے دن ڈاکٹر کے پاس جانے والو یہ دو چھوٹی سورتیں پڑھ لو، لاکھوں روپے بچیں گے ہر بیماری سے چفا ملے گی

عبداللہ ابن مبارک رحمۃ اللہ کہاکرتے تھے لوگو بیس سال میں نے اپنے نفس کو تہجد پر لگایا پھر میرا نفس اتنا لذت سے لبریز ہوا باقی بیس سال میرا دل مجھے اٹھاتا تھا اٹھو لیٹے کیوں ہو اٹھو لذت لو رسول اللہ ﷺ کی زوجہ مطہرہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ جنہوں نے اپنا ورد بنایا ہوا تھا اگر تھکاوٹ ہوجاتی تو سونے سے پہلے ہی

پڑھ کر سوجاتی ثواب کیا ہے ؟رسول اللہ ﷺ نے فرمایا آج تیسرے دن ڈاکٹر کے پاس بند ہ جاتا ہے کیا ہوا جی ؟بس جی یہ مرہق ہوگیا جسم میں تھکاوٹ ہے اور فرسٹریشن ہے بلا بلا بلا سستی بڑی ہوجاتی ہے کیا کروں وقت پر کام نہیں کرپاتا کسٹمر آکر مڑ جاتے ہیں سرتاج رسل کا فرمان ہے رات کی تاریکی میں اٹھ کر جو دس آیتیں کھڑا ہو کر پڑھ لے اس کا نام غافلوں کی فہرست سے اللہ تعالیٰ کاٹ دیتے ہیں اور وہ آیات ہیں قرآن پاک کی آخری دو سورتیں۔اللہ تعالیٰ نے انسان کو اِس دُنیا میں صرف اور صرف اپنی عبادت، اپنی معرفت اور اپنی پہچان کروانے کے لیے بھیجا ہے، تاکہ وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت اور اُس کی بندگی کرکے اُس کی ذات کو پہچان کر اور اُس کی معرفت حاصل کرکے اِس دُنیا میں اللہ تعالیٰ کو راضی کرلے، اور پھر آخرت کی ہمیشہ ہمیشہ کی زندگی عیش و عشرت اور راحت وآرام میں بسر کرے۔ یہی وجہ ہے کہ حضرات انبیاء علیہم الصلاۃ والسلام ، صحابہ کرامؓ، تابعینؒ، تبع تابعینؒ اور ائمہ مجتہدینؒ نے اپنے تمام شعبہ ہائے زندگی ٗمعاشرت و معیشت، غمی و خوشی، تنگ دستی و فراوانی اور اپنی حرکات و سکنات اور نشست و برخاست کے ہروقت اور ہر لمحہ میں اِس عظیم مقصد کو اپنے سامنے رکھا اور اس کے اختیار کرنے میں ہمیشہ وہ کوشاں رہے۔ وہ دُنیوی کاروبار، زراعت و تجارت، صنعت و حرفت وغیرہ بھی کرتے تھے، لیکن اُن کے دِل ہمیشہ اللہ تعالیٰ کی محبت و الفت میں

مست و سرشار رہتے اور کسی وقت بھی اُس کی یاد سے غافل نہیں رہتے تھے۔ ایسے ہی لوگوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید میں فرمایا ہے: رِجَالٌ لَّا تُلْہِیْہِمْ تِجَارَۃٌ وَّلَا بَیْْعٌ عَنْ ذِکْرِ اللّٰہِ وَإِقَامِ الصَّلَاۃِ وَإِیْتَاء الزَّکَاۃِ۔ یہ وہ لوگ ہیں کہ جنہیں کوئی تجارت یا کوئی خرید و فروخت نہ اللہ کی یاد سے غافل کرتی ہے، نہ نماز قائم کرنے اور نہ زکوٰۃ دینے سے۔ یہی وہ لوگ ہیں جو رات جیسے پر سکون وقت میں بھی راحت و آرام کے بجائے اپنے محبوبِ حقیقی کے سامنے عبادت و بندگی کے لیے دست بستہ کھڑے ہوتے ہیں، اور نماز میں اُس کے سامنے راز و نیاز میں مشغول ہوجاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اِنہی لوگوں کا قرآن مجید میں مختلف انداز میں ذکر فرمایاہے، چنانچہ ایک جگہ ارشاد ہے:تَتَجَافٰی جُنُوْبُہُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ یَدْعُوْنَ رَبَّہُمْ خَوْفاً وَّطَمَعاً وَّمِمَّا رَزَقْنَاہُمْ یُنْفِقُوْنَ فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّا أُخْفِیَ لَہُمْ مِّنْ قُرَّۃِ أَعْیُنٍ اُن کے پہلو (رات کے وقت) اپنے بستروں سے جدا رہتے ہیں، وہ اپنے رب کو ڈر اور اُمید (کے ملے جلے جذبات) کے ساتھ پکار رہے ہوتے ہیں، اور ہم نے اُن کو جو رزق دیا ہے وہ اُس میں سے (نیکی کے کاموں میں) خرچ کرتے ہیں، چنانچہ کسی متنفس کو کچھ پتہ نہیں کہ ایسے لوگوں کے لیے آنکھوں کی ٹھنڈک کا کیا سامان اُن کے اعمال کے بدلے میں چھپا کر رکھا گیا ہے۔ اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو۔آمین

Sharing is caring!

Comments are closed.