’’پاکستان میں بزنس دنوں میں بڑھانے کا طریقہ ‘‘

آج سے کوئی دس سال پہلے کی بات ہے کہ میں ایک نئے مکان میں شفٹ ہوا۔ شفٹ ہونے کے بعد میں نے اس گھر میں اپنا گیزر لگانا تھا۔ یہ سردیوں کے دن تھے اور گرم پانی کے بغیر گذارہ ممکن نہیں تھا۔ میں نے ایک پلمبر کو بلایا ۔ اس نے کام دیکھا اور پھر مجھے کہا کہ آپ کا یہ کام پندرہ سور روپے میں ہو گا۔ میں نے اس سے درخواست کی کہ آپ ایک ہزار میں کام کر دیں۔ لیکن اس نے کہا کہ اس کا باٹا ریٹ ہے۔ وہ لوگوں کے ساتھ بارگین نہیں کرتا۔خیر میری مجبوری تھی ۔ میں چپ رہا۔ میں نے اسے کہا کہ آپ گیزر لگا دیں۔ مجھے اس کا رویہ اچھا نہیں لگا ۔ کیونکہ مجھے یوں محسوس ہوا جیسے وہ جان بوجھ کر ڈیل خراب کرنا چاہتا ہے۔ اسے میری مجبوری کا علم تھا اس لئے وہ اپنی بات پر قائم رہا۔اس نے آدھے گھنٹے کے اندر گیزر لگا دیا۔

اس کے بعد پندرہ سو لئے اور چل دیا۔ گیزر بھی اس نے جس طرح لگایا وہ مجھے پتہ ہے، ایک ایک چیز میں اس کو پکڑا رہا تھا۔ سارے معاملے میں اس کی مدد کرتا رہا۔ خیر اس نے اپنے پیسے لئے اور چلا گیا۔ مجھے بھی بات بھول بھال گئی۔کچھ عرصہ بعد میں دو چار گلی چھوڑ کر ایک کشادہ مکان میں شفٹ ہو گیا۔ لیکن یہاں بھی گیزر لگانے کا مسئلہ درپیش تھا۔ پہلے میرے دل میں خیال آیا کہ اسی پلمبر کو بلاؤں جس نے پہلے فٹ کیا تھا۔ لیکن اس کا رویہ یاد آیا تو میں نے اپنا ارادہ ملتوی کر دیا اور کسی اور بندے کو ڈھونڈنے نکل پڑا۔ خیر تھوڑی سی کوشش کے بعد مجھے ایک پلمبر مل گیا۔ وہ میرے ساتھ آیا ۔ کام کا جائزہ لیا اور کہا میں آپ سے اس کام کے ایک ہزار لوں گا۔میں نے کہا کہ میں تنخواہ دار آدمی ہوں کوئی مہربانی کریں۔ جس پر اس نے مسکرا کر کہا کہ بھائی جان کوئی بات نہیں آپ مجھے آٹھ سو روپے دے دینا۔

میں نے کہا کہ ٹھیک ہے آپ کام شروع کریں۔ وہ آیا اور اپنے ساتھ ایک اور لڑکا بھی لایا۔ ان دونوں نے آدھے گھنٹے میں گیزر لگایا۔ چائے پینے کے بعد میں نے آٹھ سو اس بندے کو دیئے ۔ اس نے پیسے لئے۔ شکر الحمداللہ کہا۔ تین سو ساتھ لائے لڑکے کو دیئے ، پانچ سو اپنی جیب میں ڈالے، میرا شکریہ ادا کیا اور جاتے جاتے فیڈ بیک بھی لیا کہ بھائی آپ کام سے تو مطمئن ہیں ۔ جس پر میں نے اس کے کام کی تعریف کی اور اس کا نمبر بھی لے لیا۔دو چار دن بعد ایک دوست کی کال آئی کہ یار آپ نے گیزر جس بندے سے لگوایا ہے اس کا نمبر تو دے دیں۔ کیونکہ میں نے نیا گیزر لیا ہے۔ میں نے فوراً سے اس بندے کا نمبر ڈائل کیا اور اسے اپنے دوست کے گھر پہنچنے کا کہا۔ اس نے آٹھ سو میں اس کا بھی کام کر دیا۔ اس کے بعد اس پلمبر کو میں نے اپنے ریفرنس سے کوئی دس جگہ نلوں، پائپوں اور گیزر کے کام کے لئے بھیجا۔ ہر جگہ اس نے اپنا تعلق بنایا، لوگوں کے دلوں میں جگہ بنائی اور نئے ریفرنس بھی ڈھونڈے۔آج اس بندے کی مارکیٹ میں سینٹری کی سب سے بڑی دکان ہے۔ اس کے پاس دس کے قریب اسٹاف ہے جس میں پلمبر، الیکٹریشن اور پینٹرز موجود ہیں۔

آج بھی اس کا رویہ یہی ہے۔ خوش اخلاقی ، فیڈ بیک، جس کے ساتھ ایک بار کام کرتا ہے وہ بندہ اسے یاد رکھتا ہے۔ اس کے پاس آتا ہے، اس سے مشورہ لیتا ہے۔اس کی کامیابی کے پیچھے ایک ہی راز ہے کہ یہ جو کنواں کھودتا ہے اسے دوبارہ اپنے غلط اور لالچی رویے سے بند نہیں کرتا۔ یہ ہر نئے کنویں سے تھوڑا سا پانی لیتا ہے اور آئندہ کے لئے دوبارہ پانی لینے کا راستہ کھلا چھوڑتا ہے۔ یہ ایک ہی بار میں پیسہ نہیں کمانا چاہتا ۔ یہ اپنے کسٹمرز کے دل میں اپنی جگہ بناتا ہے۔ ان کے تعلقات کی وجہ سے مزید آگے جاتا ہے اور مزید اچھا کام کر کے اپنا سرکل بڑا کرتا جا رہا ہے۔مجھے وہ پہلا بندہ بھی یاد ہے۔ میں نےاسے کچھ عرصہ پہلے دیکھا ہے۔ وہ آج بھی انہی حالوں میں ہے۔ اس کی آج بھی کوشش ہوتی ہے کہ جو بھی کنواں وہ کھودے اسے فوراً بند بھی کر دے۔ لیکن اس کے اس رویے کی وجہ سے اس کا اپنا بخت بند ہو چکا ہے۔ یہ ایک بندے سے ایک ہی بار میں جو لے سکتا ہے لے لیتا ہے اور پھر نئے بندے کی تلاش میں نکل جاتا ہے ۔ زندگی اس کی بھی چل رہی ہے لیکن اس میں ترقی نہیں، عزت نہیں ، ریفرنس نہیں، فیڈ بیک نہیں، مہربانی نہیں اور آگے بڑھنے کا جذبہ نہیں۔

مجھے اندازہ ہے کہ یہ بندہ جب اکیلا ہو گا تو یہی سوچتا ہو گا کہ میری قسمت ہی خراب ہے یا یہ لوگ ہی خراب ہیں۔یاد رکھیں اگر زندگی میں آگے بڑھنا ہے تو محنت سے کھودے کنویں کو فوراً اپنے لالچ اور غلط رویے کی وجہ سے بند نہ کریں۔ لوگوں کے ساتھ اچھا سلوک کریں۔ اپنے کسمٹرز کو اچھا کام دیں۔ ان کا اعتماد جیتیں۔ ان سے عزت لیں۔ ان کو عزت دیں۔ اگر پیسے کم بھی بچ رہے ہیں تو کوئی بات نہیں۔ لیکن تعلق بچنا چاہیئے ، آگے کے رابطے کی وجہ رہنی چاہیئے۔ اس زمین پر لوگ بستے ہیں اور لوگ ہی لوگوں کے کام آتے ہیں۔نوٹ اس پیغام کو دوسروں تک پہنچائیے تاکہ اللہ کسی کی زندگی کو آپ کے ذریعے بدل دے

Sharing is caring!

Comments are closed.