شعبان کا بے پناہ طاقتور وظیفہ جیب بھر دینے 5منٹ کا وظیفہ، دولت کا اسم اعظم

ذکرِ الٰہی انوار کی کنجی ہے، بصیرت کا آغاز ہے اور جمال فطرت کا اقرار ہے۔ یہ حصول علم کا جال ہے۔ یہ تماشہ گاہ ہستی کی جلوہ آرائیوں اور حسن آفرینیوں کا اقرار ہے۔ ذاکر کے ذکر میں زاہد کے فکر میں خالق ِ آفاق کی جھلک نظر آتی ہے۔ ذکر الٰہی دراصل خالق حقیقی سے رابطے کی ایک شکل ہے۔اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ جس وقت بندہ میرا ذکر کرتا ہے اور میری یاد میں اس کے ہونٹ حرکت کرتے ہیں

تو اس وقت مَیں اپنے اس بندہ کے ساتھ ہوتا ہوں۔حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے جب شعبان کی پندرہویں شب آتی ہے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اعلان ہوتا ہے، ہے کوئی مغفرت کا طالب کہ اس کے گن اہ بخش دوں ، ہے کوئی مجھ سے مانگنے والا کہ اسے عطا کروں ۔ اس وقت اللہ تعالیٰ سے جو مانگا جائے وہ ملتا ہے۔ وہ سب کی دعا قبول فرماتا ہے سوائے بدکار عورت اور مشرک کےکہا گیا ہے کہ اس کو شب برات اور شب صک اس لئے کہتے ہیں کہ بُندار یعنی وہ شخص کہ جس کے ہاتھ میں وہ پیمانہ ہوکہ جس سے ذمیوں سے پورا خراج لے کر ان کے لئے برات لکھ دیتا ہے۔

اسی طرح اللہ تعالیٰ اس رات کو اپنے بندوں کے لئے بخشش کا پروانہ لکھ دیتا ہے۔ اس کے اور لیلۃ القدر کے درمیان چالیس راتوں کا فاصلہ ہوتا ہے۔حضرت عبداللہ بن عمرو ؓ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا ماہِ شعبان کی نصف شب (یعنی پندرہویں رات) کو اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کی طرف متوجہ ہوتا ہے، پس وہ اپنے بندوں کو معاف کر دیتا ہے سوائے دو لوگوں کے: سخت کینہ رکھنے والا اور قات ل۔اُم المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ عنہما ارشاد فرماتی ہیں

کہ ایک رات میں نے حضور ﷺ کو اپنے بستر پر نہ پایا تو میں حضور ﷺ کی تلاش میں نکلی تو میں نے آپ ﷺ کو جنت البقیع میں پایا کہ آسمان کی طرف حضور ﷺ نے سر اٹھایا ہوا تھا مجھے دیکھ کر حضور ﷺنے فرمایا ”اللہ تعالیٰ نصف شعبان کو آسمان دنیا پر جلوہ گر ہوتا ہے اور قبیلہ کلب کی بکریوں کے جس قدر بال ہیں اُن سے زیادہ لوگوں کو بخش دیتا ہے۔آج کا وظیفہ آپ نے اول وآخر تین بار درود ابراہیمی پڑھ لینے اور پھر اللہ کے دو اسم مبارکہ یامجیبُ یا وھاب ُ کو 300مرتبہ پڑھنا ۔ انشاء اللہ آپ کی تمام تکالیف پریشانیاں ختم ہوجائیں مالی حالات ٹھیک ہوجائیں گے ۔

Sharing is caring!

Comments are closed.