الجبار پڑھنے کے 3خاص فائدے ، مسلمانوں جان لیں

اس تحریر میں جس عمل کے بارے میں بتارہے ہیں وہ اللہ تعالیٰ کا اسم مبارک یَاجَبَّارُ ہے اگر آپ یاجبارُ کا ورد کرتے ہیں تو اس کے کون سے خاص تین فائدے ہیں اس کی کیا فضیلت و برکات ہیں اگر آپ اس عمل کو کرنا چایں تو اس کی اجازت عام ہے یعنی ہر عام و خاص شخص یہ عمل کرسکتا ہے اس کے

لئے خصوصی اجازت کی ضرورت نہیں ہے آپ جب بھی چاہیں اس عمل کو کرسکتے ہیں کسی قسم کی خصوصی اجازت کسی سے نہیں لینی۔ آپ نے پورے یقین کامل کے ساتھ یہ وظیفہ کرنا ہے تا کہ آپ اس کے سوفیصد برکات سے فائدہ اُٹھا سکیں ۔یاجبارُ کا کثرت سے پڑھنے کا جو پہلا فائدہ ہے کہ اگر کوئی شخص صبح اور شام دو سو چھبیس مرتبہ یا جبارُ کوپڑھے گا یعنی اپنا معمول بنالے صبح بھی دوسو چھبیس مرتبہ اور شام کو بھی دو سو چھبیس مرتبہ تو ہر قسم کے ظالموں کے ظلم سے محفوظ رہے گا دوسرا اگر کوئی بادشاہ اس کو اپنا معمول بنا لے کثرت سے یا جبار کا ورد کیا کرے تو دوسرابادشاہ اس پر غالب نہ ہوسکے گا

دوسرے بادشاہوں کی مغلوبیت سے بچا رہے گا اور اس کی حاکمیت قائم رہے گی تیسرے جو بھی شخص یاجبار کا کثرت سے ورد کرے گا تو وہ مخلوق کی غیبت اور بدگوئی سے محفوظ رہے گا یعنی مخلوق اس کی غیبت نہیں کرے گی اس کی بدگوئی نہیں کرے گی ساتھ ہی ساتھ وہ ان کے ظلم سے بھی محفوظ رہے گا۔یاد رہے کہ جبار کا لفظ جب مخلوق کیلئے آئے تو اس کا معنی متکبر ہوتا ہے اور اگر اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کیلئے آئے جیسے جبار اس کی صفت ہے تو اس کا معنی بالکل مختلف ہوتا ہے ، جیسے ایک معنی ہے: وہ ذات جو اپنی مخلوق پر عالی ہے۔ دوسرا معنی ہے: وہ جو معاملات کو سدھار دیتا ہے ۔ تیسرا معنی ہے: وہ جو اپنے ارادے میں غالب ہے۔ چوتھا معنی ہے: وہ کہ جس کی سلطنت میں اس کے حکم کے سوا کسی کا حکم نہ چل سکے۔ یہ سب معانی اللہ عَزَّوَجَلَّ کے شایانِ شان ہیں ۔آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام تکبرکرنے والے اور اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کے نافرمان نہیں بلکہ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام عاجزی وانکساری کرنے والے اوراپنے رب عَزَّوَجَلَّ کی اطاعت کرنے والے تھے ۔یہاں جَبّارکے معنی متکبر کے ہیں اور ایک قول یہ بھی

ہے کہ جَبّار وہ شخص ہوتاہے جوغصہ میں م ا ر ے اور ق ت ل کرے۔حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول کریم ﷺ نے فرمایا اللہ رب العزت فرماتے ہیں جو ایک نیکی لائے گا اس کا 10گنا ثواب ہوگا اور میں اور بھی زیادہ اجر عطا کروں گا اور جو برائی لائے گا تو اس کا بدلہ اسی کے برابر ہوگا یا میں اُسے معاف کردوں گا۔ اور جو مجھ سے ایک بالشت قریب آئے گا میں ایک ہاتھ اس کے قریب آؤں گا اور جو مجھ سے ایک ہاتھ قریب آئے گا، میں چار ہاتھ اس کے قریب آؤں گا۔ جو میرے پاس چل کر آئے گا میں اس کے پاس دوڑ کر آؤں گا۔ جس نے پوری زمین کے برابر گناہ کرکے مجھ سے ملاقات کی بشرطیکہ میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کیا تو میں اس کی مغفرت کردوں گا۔ اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو۔آمین

Sharing is caring!

Comments are closed.