میاں بیوی میں بے پناہ محبت کا آسان سا عمل ، ساری زندگی لڑائی نہیں ہوگی

گھر کا سکون جن چیزوں سے وابستہ ہے ان میں سے ایک جھگڑے سے بچنا بھی ہے، چنانچہ جس گھر میں میاں بیوی، ساس بہو، بھائی بہن، بھائی بھائی کی آپس میں نہ بنتی ہو، ہر ایک ہاتھ میں گویا بارُودی مواد لے کر گھومتا ہو کہ جونہی کسی نے ذرا سی بات کی فوراً آگ کا شعلہ بھڑک اُٹھے اور جھگڑا شروع ہوجائے، اُس گھر میں اَمْن و سکون کی فضا قائم ہونے کے بجائے ٹینشن کی کیفیت دکھائی دیتی ہے۔

جھگڑے میں نقصان دونوں فریقوں کا ہوتا ہے، یہ الگ بات ہے کہ کسی کا کم تو کسی کا زیادہ۔ جس میں ذرا سی بھی عقل ہوگی وہ کبھی بھی جھگڑے کو اچھا نہیں سمجھے گا، لیکن ذرا سی بات پر جھگڑنے والوں کی عقل پر نہ جانے کونسا پردہ پڑ جاتا ہے کہ انہیں اپنی عزت و وقار کا احساس رہتا ہے نہ سامنے والے کی عزت کا! زبان درازی، دل آزاری، طنز، طعنے، تہمت لگانا، عیب کھولنا، گالم گلوچ، ہاتھا پائی اور طلاق! خدا کی پناہ! کیا کچھ نہیں ہوجاتا اس جھگڑے میں؟

جھگڑالو شخص کی مذمت کرتے ہوئے مدنی تاجدار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: بے شک اللہ عَزَّ وَجَلَّ کو لوگوں ميں سب سے ناپسند وہ لوگ ہيں جو شديد جھگڑالو ہيں۔آپس میں صلح اور پیار محبّت کے ساتھ رہنے میں فائدہ ہے جبکہ جھگڑے میں نقصان،تو ہمیں ایسا کچھ کرنا چاہیے کہ جھگڑے کی نوبت ہی نہ آئے۔

جھگڑا چھوڑنے کی فضیلت بیان کرتے ہوئے سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: جو شخص حق پر ہونے کے باوجود جھگڑا چھوڑ دے، اس کے لیے جنت کے بیچ میں گھر بنایا جائے گا۔ہر شخص کا مزاج الگ الگ ہوتا ہے مثلاً کسی کو سالن میں تیز مرچ اچھی لگتی ہے تو کسی کو ہلکی، دوسروں کو اپنے مزاج کا پابند نہ بنائیں، درمیانہ راستہ نکالنا ہی دانشمندی ہے۔

غلطیاں کس سے نہیں ہوتیں! خود ہی پر غور کر لیجئے، اپنی بڑی غلطی پر ہلکی سی سوری اور دوسروں کی چھوٹی غلطی پر پاؤں پکڑ کر، زمین پر ناک رگڑ کر معافی مانگنے کا تقاضا کرنا جھگڑے کا راستہ کھولتا ہے۔ ہر معاملے میں اپنی من مانی کرنا دوسروں کو تنگی میں مبتلا کرنے والی بات ہے، دوسروں کی بھی سنیں پھر اس کے فائدے دیکھئے۔

ہر بات میں حکم چلانا: آج یہ پَکا لو، یہاں نہیں جانا، آج وہاں نہیں جانا، دیواروں پر فلاں رنگ ہوگا یہ انداز آپ کی شخصیت کو چار چاند نہیں لگائے گا، اپنے انداز میں لچک و گنجائش لائیں، کبھی مشورہ دینے کا انداز اپنا کر دیکھیں مثلاً اگر چاہیں تو آج یہ پکا لیں، اس طرح بچوں کی امی کے دل میں آپ ہی کا احترام بڑھے گا اور گھر میں بھی آپ کی قدر و قیمت بڑھ جائے گی۔

ایک ہی گھر میں رہنے والے عموماً ایک دوسرے کی نظروں میں ہوتے ہیں، اس لیے شیطان کے لیے دلوں میں بدگمانی پیدا کروانا آسان ہوجاتا ہے، مثلاً بہو کو کچن میں باکس کا دروازہ بند کرتے دیکھ کر ساس کے دل میں یہ خیال آئے کہ اچھا! یہ مجھ سے کھانے کی چیزیں چھپا کر رکھ رہی ہے، چاہے اس بے چاری نے مرچوں کا ڈبہ باکس میں رکھا ہو۔ جب تک گھر کا ہر فرد حسنِ ظن کے جام نہیں پیئے گا بدگمانی کا راستہ روکنا بہت مشکل ہے۔

مشہور ہے جس کا کام اسی کو ساجھے ، کچھ کام عورتوں کے ذمے ہوتے ہیں مثلاً کچن، صفائی اور بستر کے معاملات، ان میں مردوں کو بِلاضرورت دخل نہیں دینا چاہیے اور کچھ مردوں کے کرنے کے ہوتے ہیں مثلاً سواری، دکانداری، فرنیچر وغیرہ اس میں عورتیں خواہ مخواہ دخل اندازی نہ کریں۔ یہ بات اپنے پیشِ نظر رکھیں تو جھگڑا کرنے سے خود ہی رک جائیں گے کہ سامنے والا بھی انسان ہے اُسے بھی بُھول، تھکن اور بیماری لگ سکتی ہے، اسے بھی غصّہ آتا ہے۔

چھوٹی چھوٹی باتوں پر طوفان مچانے والا اپنا وقار کھو بیٹھتا ہے۔ جب مشکلات،گھریلو ناچاقیاں ،روزانہ کے گھریلو جھگڑے آپ کو مایوس کر دیں تو اس پریشانی کے عالم میں اس دعا کو پڑھیں اﷲ اپنے حکم سے پریشانی کو دور کر دے گا۔وقالو الحمد للہ الذی اذھب عن الحزن ان ربنا لغفور شکور۔انشاء اللہ تمام تنگیاں لڑائی جھگڑے ختم ہوجائیں گے۔اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو۔آمین

Sharing is caring!

Comments are closed.