مونچھیں رکھنے والے خبردار ! امام علی ؓ نے فرمایا کہ :

امام علی ؓ راستے سے گزررہے تھے دیکھا ایک شخص پانی پی رہا تھا اور اس کی مونچھیں اس پانی کو لگ رہی تھیں بس امام علی ؓ قریب گئے اور فرمانے لگے اے بندہ خدا اپنی مونچھوں کو پست رکھا کرو تو وہ پوچھنے لگا یا علی کتنی پست؟امام علی ؓ نے فرمایا تمہاری مونچھیں اتنی پست ہوں کہ کھانے پینے کی چیزوں کو لگ نہ پائیں یاد رکھنا جب مونچھوں کے بال کھانے پینے کی چیزوں میں لگتے ہیں اور وہ غذا یا پانی انسان کے منہ میں جاتا ہے تو یوں انسان پریشانیوں مصیبتوں اور بیماریوں میں گرفتار ہونے لگتا ہے اے بندہ خدا اللہ نے جو قوانین انسان پر لازم کئے اس میں انسان کا ہی بھلا ہے اے شخص یاد رکھنا اگر بیماریوں مصیبتوں اور پریشانیوں سے بچنا چاہتے ہو تو اپنی مونچھوں کو حد سے زیادہ بڑھنے نہ دو اتنی پست رکھو کہ چہرے کی خوبصورتی بھی برقرار رہے اور مونچھوں کے

بال کھانے پینے کی چیزوں کو بھی لگ نہ پائیں۔حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مشرکین کی مخالفت کرو، مونچھیں باریک کرو اور داڑھی بڑھاؤ۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما جب حج یا عمرہ کرتے تو اپنی داڑھی کو مٹھی میں پکڑتے اور جو اضافی ہوتی اس کو کاٹ دیتے۔حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے ہی مروی ایک حدیث میں ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے:مونچھیں پست کرو اور داڑھی بڑھاؤ۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:آتش پرستوں کی مخالفت کرو، مونچھیں ترشواؤ اور داڑھی بڑھاؤ۔حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت میں ہے کہ:نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی مونچھیں مبارک کتروایا کرتے تھے اوؤر اللہ کے خلیل حضرت ابراہیم e بھی ایسا ہی کیا کرتے تھے۔حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:جو اپنی مونچھوں کا کچھ حصہ (جو ہونٹ سے زائد ہو) نہ ترشوائے وہ ہم میں سے نہیں۔مونچھیں کاٹنے کی مذہب مختار میں حد یہ ہے کہ ہونٹ ظاہر ہو جائیں، کلی طور پر مونڈھنا نہیں اور جن روایات میں احفوا الشوارب مونچھیں کاٹو،

اس کا مطلب ہے وہ بال کاٹو جو ہونٹوں پر لمبے لمبے موجود ہیں۔بہت سے بزرگ اس طرف گئے ہیں کہ مونچھیں مونڈھی جائیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس ظاہر قول سے استدلال کرتے ہوئے کہ مونچھیں کٹاؤ اور یہی قول ہے اہل کوفہ کا اور بہت سے علماء مونچھیں نہ کاٹنے اور نہ مونڈھنے کی طرف گئے ہیں اور یہی قول ہے امام مالک رحمہ اﷲ کا، وہ مونچھیں مونڈھنے کو مثلہ قرار دیتے تھے اور مونڈھنے والے کو سزا کا حکم دیتے اور اوپر سے مونچھیں مونڈھنے کاٹنے کو مکروہ سمجھتے تھے ان کے نزدیک اِحفاء، جَزّ اور قصّ کا ایک ہی مطلب ہے کہ مونچھیں اتنی کاٹی جائیں جس سے ہونٹ ظاہر ہو جائیں بعض علماء کے نزدیک بندے کو دونوں میں اختیار ہے۔مونچھیں تراش کر پست کرنا سنت ہے، مونڈھنا یا جڑ سے اکھاڑنا کسی دلیل سے ثابت نہیں ہے اور نہ اس کی ممانعت ہے۔اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔آمین

Sharing is caring!

Comments are closed.