حضرت امی عائشہ ؓنے فرمایا جو لڑکی یہ کام کرے سمجھ لو وہ منافق ہے! آپ بھی جان لو

آج بازار میں چلے جائیں طرح طرح کے لباس یہ میرے رب کی رحمتیں ہیں کیسے لوگ تھے وہ جنہوں نے ابتدائے اسلام میں گزارے کئے صحابی کہتے اللہ رسول کے پاس لوگ آئے ان کے پاس کپڑاتھا ہی نہیں جانوروں کی کھال کو سوراخ کیا ہوا گلے میں ڈالا ہوا اور اللہ کے رسول فرماتے ہیں تصدقو ان کے پاس

تو کپڑا بھی نہیں ہے آج ہمیں اللہ کا شکر ادا کرنا چاہئے اللہ نے لاکھوں نعمتیں دی ہیں اللہ کی قسم اتنی نعمتیں دی ہیں اتنی نعمتیں دی ہیں دیانت داری سے میں کہہ رہا ہوں آپ بھی اکیلے بیٹھ کر کہیں گے ہم اتنے اعمال نہیں کر تے نیک جتنی نعمتیں اللہ نے عطا کررکھی ہیں لباس دیکھتے ہیں جو سب سے اچھا ہو وہ خریدیں گے لیکن شریعت کیا کہتی ہے اصل لباس کیا ہے عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں الایمان عریان ایمان بے لباس ہے وزینتہ التقویٰ ایمان مزین ہوتا ہے جب انسان متقی بنے ولباسہ الحیاء جس نے اپنے ایمان کو لباس پہنانا ہے ایمان کا لباس تو پھر حیاء ہی ہے ۔ ہمارے تو آج اقدار ختم ہوگئی ہیں آج ڈھونڈ ڈھونڈ کر وہ کپڑا خریدتے ہیں جس سے نمائش زیادہ ہو نا عورتوں کو کوئی پرواہ ہے نہ ساتھ جانے والے جو خرید کے دیتے ہیں ان کو کوئی پرواہ ہے سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس عورتیں آئیں عورتیں عورتوں کے پاس آئیں ذرا غور کیجئے باریک لباس پہنا ہوا تھا لوگ کہتے ہیں عورتیں تو وہاں مرد تو نہیں تھیں گیدرنگ تھی تو سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتی ہیں ان کنتن مومنات فلیس ھذا بلباس المومنات اگر تو تم مومنہ ہو تو مومنہ عورتیں اس طرح کا لباس نہیں پہنتی وان کنتن غیر ذالک فتمتعن بہ اگر تم مومنہ نہیں ہو تو پھر تم پر کوئی پابندی

نہیں ہے فیصلہ کردیا یہ جو بہانے بنا رکھے ہیں ان کی کوئی جگہ نہیں ہے۔اور اللہ(کی راہ) میں جہاد کرو جیسا جہاد کرنے کا حق ہے۔ اس نے تم کو برگزیدہ کیا ہے اور تم پر دین کی (کسی بات) میں تنگی نہیں کی۔ (اور تمہارے لئے) تمہارے باپ ابراہیم کا دین (پسند کیا) اُسی نے پہلے (یعنی پہلی کتابوں میں) تمہارا نام مسلمان رکھا تھا اور اس کتاب میں بھی (وہی نام رکھا ہے تو جہاد کرو) تاکہ پیغمبر تمہارے بارے میں شاہد ہوں۔ اور تم لوگوں کے مقابلے میں شاہد اور نماز پڑھو اور زکوٰة دو اور خدا کے دین کی (رسی کو) پکڑے رہو۔ وہی تمہارا دوست ہے۔ اور خوب دوست اور خوب مددگار ہے اور دوسری جگہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:اے نبی آدم ہم نے تم پر پوشاک اتاری کہ تمہارا ستر ڈھانکے اور (تمہارے بدن کو) زینت (دے) اور (جو) پرہیزگاری کا لباس (ہے) وہ سب سے اچھا ہے۔ یہ اللہ کی نشانیاں ہیں تاکہ لوگ نصحیت پکڑ یںلباس کا شمار انسان کی بنیادی ضرورتوں میں ہوتا ہےجس کا مقصد انسان کی ستر پوشی اور اس کی شخصیت کو نمایاں کرنا ہے،جب سے یہ دنیا وجود میں آئی ہے اس وقت سے ہی انسان کا کوئی مخصوص لبا

س نہیں رہا ،جیسے جیسے انسانی تہذیب و تمدن ترقی کرتی گئی انسان کا لباس بھی تبدیل ہوتا گیا ،ابتداءً انسان اپنی ستر پوشی درخت کے بڑے پتوں اور درخت کی چھالوں سے کرتا تھا،یا پھر جانوروں کی کھالوں سے ستر پوشی کرتا تھا۔غرض کہ جیسے جیسے انسانی تہذیب ترقی کرتی گئی انسان کا طرز زندگی بھی بدلتا گیا ، لیکن ستر ڈھانپنا ہر دور میں رہا(واضح رہے کہ ہم یہاں صرف اسلامی نظریات پیش کررہے ہیں انگریزی یا ڈارون نظریات نہیں )اور ستر کا معیار بھی ہر دور میں جدا گانہ رہا۔ابتداء میں اسلامی لباس کیا تھا عورتوں کا لباس کیا تھا اور مردوںکا کیا تھا اس بارے میں ہمارے پاس تین انبیاء ورسل علیہم السلام کے واقعات سے کچھ اس طرح اشارہ ملتا ہے۔ایک واقعہ تو حضرت سلیمان ؑاور ملکہ کا ہے کہ جب اس کی پندڈلی کھل گئی تھی اور دوسرا وقعہ حضرت موسیٰؑ اور حضرت شعیب ؑ کی دختر نیک اطوار کا ہے ،کہ جب وہ موسیٰؑ کو رہنمائی کرر ہی تھی اور تیز ہوا کی وجہ سے ان کا ٹخنہ کھل کھل جارہا تھا تو اس قوت موسیٰؑ نے ان کو اپنےپیچھے آنے کو فرمایا تھا،اور تیسرا واقعہ ہے حضرت یوسفؑ کا واقعہ اس جس کی تفصیل سورہ یوسف میں ہے قرآن پاک میں تین جگہ قمیص کا ذکر ہے :اور ان کے کرتے پر جھوٹ موٹ کا لہو بھی لگا لائے۔اور دونوں دروازے کی طرف بھاگے (آگے یوسف اور پیچھے زلیخا) اور عورت نے ان کا کرتا پیچھے سے (پکڑ کر جو کھینچا تو) پھاڑڈالااور دونوں دروازے کی طرف بھاگے (آگے یوسف اور پیچھے زلیخا) اور عورت نے ان کا کرتا پیچھے سے (پکڑ کر جو کھینچا تو) پھاڑ ڈالا۔اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو۔آمین

Sharing is caring!

Comments are closed.