”تین بڑے گناہ جن کے بعدکوئی عمل قبول نہیں ہوتا“

اللہ کے نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ : اے میرا صحابہ ! میں تمہیں گن اہوں میں سے بڑے گن اہوں کی خبر نہ کروں۔ صحابہ نے عرض کی کہ کیوں نہیں ، ضرور ارشاد فرمائیں ۔ آپ ﷺ نے گن اہوں میں سے جو بڑے گن اہ تھے ان کی خبر فرمائی ۔ وہ کونسے کونسے ہیں؟ فرمایا: اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا: یعنی شرک کرنا ، اللہ کے سوا کسی اور کے ہاں عبادت کرنا، کسی اور کو عبادت کے لائق سمجھنا۔ آپ ﷺنے ارشاد فرمایا: گن اہوں میں بڑا گن اہ شرک ہے۔ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا۔ اس کےبعد فرمایا : گن اہوں میں سے بڑا گن اہ حقو ق والدین کی نافرمانی ۔ والدین کی نافرمانی میں فرمایا: گن اہوں میں سے ایک بڑ ا گن اہ ہے۔ جو شخص والدین کی نافرمانی کرتا ہے۔ اور ایک روایت میں یو ں بھی ہے۔ اللہ کےنبی ﷺ نے ارشاد فرمایا: والدین کی رضا میں اللہ کی رضا ہے۔

اور والدین کی ناراضگی میں اللہ کی نا راضگی ہے۔ یعنی یوں سمجھ لیں آقا ﷺ نے ارشاد فرمایا: جس شخص پر اس کے والدین راضی ہیں۔ اس پر اللہ بھی راضی ہے۔ اور جس شخص پر والدین ناراض ہیں۔ اس پر صرف والدین نہیں بلکہ اللہ بھی ناراض ہیں۔ اب ان لوگوں کو یہاں پر غوروفکر کرنا چاہیے کہ جو لو گ والدین کی نافرمانی کرتے ہیں۔ انہیں تکلیف پہنچتی ہے۔ اپنے زبان سے ، اپنے کردار سے ، ان کے سامنے اونچی آواز میں بولتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں اف تک کہنےسے منع فرمایا ہے کہ ااپنے والدین کو اف تک نہ کہو۔ یہاں پر نوجوان کیا کرتے ہیں۔ اپنے والدین کےساتھ اونچی آواز سے بات کرتے ہیں۔اب ان کو ذرا یہاں پر غور کرنا چاہیے کہ آقاکریمﷺ نے گن اہوں میں سے جو بڑے گنا ہ تھے ۔ ان کے بارے میں فرمایا: ان میں سے ایک والدین کی نافرمانی ہے۔

والدین کو تکلیف پہنچانا، ان کو اذیت پہنچانا، ان کے سامنے اونچی آواز میں بولنا ، انہیں جب اف تک کہنےسے منع کیا گیا ہے۔ انہیں ذرا فکر کرنی چاہیے کہ وہ کتنے بڑے گن اہ میں مبتلا ہور ہے ہیں۔ اور اسی طرح نبی پاک ﷺ نے ارشاد فرمایا : تیسرا جو گن اہوں میں سے بڑا گنا ہ ہے۔ فرمایا: جھوٹی گواہی دینا۔ جھوٹ بولنا ، جھوٹی گواہی دینا۔ یہ بھی گن اہوں میں سے سب سے بڑا گنا ہ ہے۔ اور اسی طرح علماء بیان فرماتے ہیں جو شخص اپنے والدین کی نافرنی کرتا ہے۔ اس کا کوئی عمل اللہ کی بارگاہ میں قبول نہیں ہوتا۔ اور جو شخص شر ک کرتا ہے۔

مشر ک کوکوئی عمل اللہ کی بارگاہ میں قبول نہیں ہوتا۔ اب یہاں پر فکر کرنے کی ضرورت ہے۔ کہ کہیں ہم میں سے کوئی ان تین گن اہوں میں سے کسی گن اہ میں مبتلا تو نہیں ہے۔ اگر ہے تو معافی مانگنی چاہیے۔ اگر والدین کی نافرنی کی ہے ۔تو والدین کو راضی کریں۔ ان کےپاؤں پکڑ لیں۔ ان کو منائیں۔ کیونکہ اللہ کی رضا میں والدین کی رضا ہے۔ اللہ کی ناراضگی والدین کی ناراضگی میں ہے۔ انسان نماز پڑھتا ہے۔ اچھی بات ہے لیکن اگر اس کے والدین راضی نہیں ہیں۔ تو اس کی نماز قبول نہیں ہوتی۔ کوئی اس کا عمل قبول نہیں ہوگا ۔ اس لیے والدین کو رضی کریں۔ والدین کےسامنے میں اونچی آواز میں نہ بولے ۔ انہیں تکلیف پہنچائیں ۔ والدین کی نافرمانی نہ کریں۔

Sharing is caring!

Comments are closed.