”فقیری کی فقیری اور غریب کی غریب ختم دولت اتنی کہ کوئی زکوٰۃ لینے والا نہیں رہے گا۔“

رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا بندہ تو بوڑھا ہوجاتا ہے

لیکن دو چیزیں اس میں جوان ہوجاتی ہیں بڑے تعجب کی بات ہے کہ بندہ بوڑھا ہے دو چیزیں جوان ہیں کون سی چیزیں جوان ہیں ایک زندگی کا وہ حریص بن جاتا ہے کہ کہیں میں فوت نہ ہوجاؤ ایک مال کا حریص ہوجاتا ہے اب تو مال ہونا چاہئے کافی زندگی گزاری چلو اب ہی مل جائے ویسے بوڑھا ہے اور دوسری روایت کے الفاظ ہیں

الحرص والامل لمبی امیدیں اس کی جوان ہوجاتی ہیں اور حرص جوان ہوجاتی ہے بندہ بوڑھا ہوگیا ہے۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے رب سے روایت بیان کرتے ہوئے فرمایا: ایک بندے نے گناہ کیا پھر (بارگاہِ الٰہی میں) عرض کیا:اے اللہ! میرے گناہ کو بخش دے، اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: میرے بندے نے گناہ کیا ہے اور اُسے یقین ہے کہ اس کا رب گناہ معاف بھی کرتا ہے اور گناہ پر گرفت بھی کرتا ہے، (سُو اﷲ تعالیٰ اُسے بخش دیتا ہے) پھر دوبارہ وہ بندہ گناہ کرتا ہے اور کہتا ہے :اے میرے رب! میرا گناہ معاف کر دے،

اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: میرے بندے نے گناہ کیا ہے اور اُسے یقین ہے کہ اس کا رب گناہ معاف بھی کرتا ہے اور گناہ پر گرفت بھی کرتا ہے، (سو وہ اُسے پھر بخش دیتا ہے) وہ بندہ پھر گناہ کرتا ہے اور کہتا ہے: اے میرے رب! میرے گناہ کو معاف کر دے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میرے بندے نے گناہ کیا ہے اور اسے یقین ہے کہ اس کا رب گناہ معاف بھی کرتا ہے اور گناہ پر مواخذہ بھی کرتا ہے (سو اﷲتعالیٰ فرماتا ہے) تم جو چاہو کرو، میں نے تمہاری مغفرت کر دی،

راوی حدیث عبدا لاعلیٰ نے کہا مجھے یاد نہیں آپ نے تیسری یا چوتھی بار فرمایا تھا: جو چاہو کرو۔حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جہنم میں داخل ہونے والوں میں سے دو آدمی زور زور سے چلانے لگیں گے۔ اللہ تعالیٰ حکم دے گا کہ اِن دونوں کو نکالو۔ اُنہیں نکالا جائے گا تو اﷲ تعالیٰ اُن سے پوچھے گا:تم لوگ اتنا کیوں چیخ رہے تھے ؟ وہ کہیں گے: ہم نے یہ اس لئے کیا ہے تاکہ تو ہم پر رحم فرمائے۔

اﷲ تعالیٰ فرمائے گا: میری تم لوگوں پر رحمت یہی ہے کہ جاؤ اور دوبارہ خود کو دوزخ میں ڈال دو۔ وہ دونوں جائیں گے اور (ان میں سے) ایک اپنے آپ کو دوزخ میں ڈال دے گا۔ اﷲ تعالیٰ اس پر آگ کو سرد اور سلامتی والی بنا دے گا۔ دوسرا وہیں کھڑا رہے گا اور اپنے آپ کو جہنم میں نہیں ڈالے گا۔

اﷲ تعالیٰ اُس سے فرمائے گا: تجھے کس چیز نے روکا کہ تو بھی اپنے آپ کو اسی طرح ڈالتا جس طرح تیرے ساتھی نے ڈالا۔ وہ کہے گا: اے رب! مجھے اُمید ہے کہ تو ایک مرتبہ دوزخ سے نکالنے کے بعد دوبارہ نہیں لوٹائے گا۔ اﷲ تعالیٰ اُس سے فرمائے گا: تیرے ساتھ تیری اُمید کے مطابق معاملہ ہو گا۔ پس دونوں اﷲ تعالیٰ کی رحمت سے جنت میں داخل ہو جائیں گے۔اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو۔آمین

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *