”حضورﷺ کا بتایا ہوا وظیفہ روزانہ رات کو یہ والی سورۃ پڑھیں“

جو شخص اللہ اور اللہ کے رسولﷺ پر ایمان لایا اس کیلئے ضروری ہے کہ ان کے احکام کا بھی پابند رہے

ان کے احکامات کو مانے اور ان پر پابند رہے ۔ نبی کریمﷺ کے ہر طریقے کو ہر ادا کو دل کی گہرائیوں اور محبت کیساتھ تسلیم بھی کرے حضوراکرمﷺ کے پاس جب صحابہ کرام ؓ حاضر ہوتے تو اپنی پریشانیاں بھی لیکر جاتے اپنے روزمرہ کے معاملات کے حل کیلئے حاضر ہوتے مسائل پوچھنے کیلئے جاتے اور زندگی گزارنے کے طریقے بھی پوچھتے تھے ۔

اسی لیے اللہ تعالیٰ کے حکم اور انسانیت کی بھلائی کیلئے آپﷺ نے ایک غریب سے لیکر بادشاہ تک ہر شخص کی زندگی گزارنے کا طریقہ بتایا اور صحابہ کرام ؓ کی بدولت یہ سب کچھ آپ تک پہنچا اسی طرح کوئی آدمی چاہتا کہ ہمارے گھر کے اندر رزق کی تنگی کاروبار نہیں ہے پریشان ہیں تو آپﷺ اس کو کیا بتاتے تھے آج ہم آپ کو اسی حوالے سے بات کریں گے اور آپ کو قرآن وسنت سے رزق کی فراوانی کا مستند وظیفہ بتائیں گے جو انشاءاللہ آپ کی زندگی میں آسانیاں ہی آسانیاں بھر دے گا ۔

انسان لالچی ہے دنیا کے فائدے کیلئے لالچ کرتا ہے آخرت کے فائدے کیلئے لالچ کرو جو فائدہ ہمیشہ کیلئے ہے دنیا میں کچھ مل گیا تو عارضی ہے اس لیے یہی اللہ تعالیٰ سے مانگیں کہ اللہ تعالیٰ دنیا میں بھی اپنی نعمتوں سے سرفراز فرما ۔ آخرت کی نعمتوں سے بھی مالا مال فرما ۔ قرآن مجید کی چھپنویں سورت ہے جس کا شمار مکی صورتوں میں ہوتا ہے ۔واقعہ قیامت کے ناموں میں سے ایک ہے جواس سورت کی پہلی آیت میں آیا ہے سورۃ واقعہ میں قیامت کے دن اور اس کے واقعات کے بارے میں تذکرہ ہوا ہے

قیامت کے دن میں لوگوں کو تین گروہوں اصحاب یمید ، اصحاب شمال ، صابقون میں تقسیم کیا گیا ہے ان کے مقام اور ان کا ثواب یا عقاب کے بارے میں بھی تذکرہ کیا گیا ہے ۔ سورۃ واقعہ میں قیامت کے دن لوگوں کا دوبارہ زندہ ہونا بیان ہوا ہے ۔ شروع میں قیامت کے بعض واقعات جیسے زمین کی حالت خراب ہونا پہاڑوں کا ریزہ ریزہ ہونے کا ذکر ہوا اور لوگوں کو تین گروہوں میں تقسیم کیا گیا ہے ۔ان میں ہر ایک کا انجام بھی بیان ہوا ہے ۔

آپﷺ کو فرماتے ہوئے سنا جو شخص ہر رات سورۃ واقعہ پڑھے اسے کبھی بھی فقروفاقہ نہیں پہنچے گا ۔ اس کے بعد حافظ ابن اثاقہ ؒ نے اس روایت کے راوی ابو زبیحہ سے نقل کیا کہ وہ سورۃ واقعہ کا پڑھنا نہیں چھوڑتے تھے بلاناغہ اس کی تلاوت کرتے تھے ۔ امام احمد ؒ نے حضرت جابر بن سمورا ؓ سے روایت نقل کی ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اکرمﷺ اس طرح نمازیں پڑھتے تھے ۔جس طرح آج تم پڑھتے ہو لیکن آپﷺ ہلکی نماز پڑھتے تھے ۔ آپﷺ کی نماز تمہاری نماز سے زیادہ ہلکی ہوتی ہے اور آپﷺ فجر کی نماز میں سورۃ واقعہ اور اس جیسی سورتیں پڑھتے تھے ۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *