”تین دن میں پہاڑ جیسی حاجت مشکل بھی دور“

یَا بَدِیعَ السَّمَواتِ والارض :اے مثال چیزوں کو ایجاد کرنے والا ۔عدد اس کا چھیاسی ہے جس شخص کو کوئی غم یا مصیبت یا کوئی بھی مشکل پیش آئے وہ ایک ہزار مرتبہ یا بدیع السموات والارض پڑھے، حق تعالیٰ نے چاہا تو کشائش نصیب ہوگی۔ جو شخص اس اسم کو باوضو پڑھتے ہوئے سو جائے، حق تعالیٰ نے

چاہا تو جس کام کا ارادہ ہو، خواب نظر آجائے گا۔ جو کوئی نماز عشاء کے بعد یا بدیع العجائب بالخیر یا بدیع بارہ سو مرتبہ بارہ دن پڑھے گا تو جس کام یا مقصد کیلئے پڑھے گا، حق تعالیٰ نے چاہا تو پورا عمل ختم ہونے سے پہلے حاصل ہو جائے گا۔ کسی غم یا اہم حاجت کیلئے ہزار مرتبہ یا بدیع السموات والارض پڑھے، حق تعالیٰ نے چاہا تو غم رفع اور مقصد پورا ہوگا۔ جو اس اسم کا بکثرت ورد کرے گا، اسے رب تعالیٰ کی طرف سے علم و حکمت عطاء کیا جائے گا اور حق تعالیٰ اس کی زبان سے ان علوم کو جاری فرمائے گا، جن کو وہ پہلے نہ جانتا ہو۔اَلْبَاقِیْ جل جلالہ:ہمیشہ باقی رہنے والا اس کا عدد ایک سو تیرہ ہے ۔ جو شخص اس اسم کو ایک ہزار مرتبہ جمعہ کی رات میں پڑھے گا، حق تعالیٰ نے چاہا تو اس کو ہر طرح کے ضرر و نقصان سے محفوظ رکھے گا اور اس کے تمام نیک اعمال مقبول ہوں گے اور اسے غم سے خلاصی نصیب ہوگی۔ جو سورج نکلنے سے پہلے سو بار روز پڑھے گا، حق تعالیٰ نے چاہا تو مرتے دم تک کچھ دکھ نہ پائے گا اور عاقبت میں بخشا جائے گا۔ اگر ہفتہ کے دن دشمن کی مغلوبی کی نیت سے مداومت کی شرط پر کسی وقت باوضو بعد دو رکعت نفل کے بعد سو بار پڑھے گا، حق تعالیٰ نے چاہا تو دشمن کے مطیع و فرمانبردار ہوں گے۔ جو ہر فرض نماز کے بعد 113 بار پڑھنے کا معمول بنائے گا، اسے اس کے منصب سے کوئی معزول نہیںکرسکے، خواہ اس کے خلاف جن و انس جمع ہوجائیں۔جو

ایک سو بار یا باقی روزانہ پڑھتا رہے گا، حق تعالیٰ نے چاہا تو اس کے اعمال مقبول ہوں گے۔ حضرت جندب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک اعرابی نے (کہیں سے) آکر اپنے اونٹ کو بٹھایا پھر اُسے ٹانگ سے باندھ کر حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھنے چلا گیا، جب حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو اُس نے اپنے اونٹ کے پاس آکر اس کی رسی کو کھولا۔ پھر اُس پر سوار ہو کر دعا کرنے لگا: یا اللہ! تو مجھ پر اور محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر رحم فرما اور ہماری رحمت میں کسی اور کو شریک نہ کر۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (یہ سن کر صحابہ سے) فرمایا: تمہارا کیا خیال ہے کہ یہ زیادہ گمراہ ہے یا اُس کا اونٹ؟ کیا تم نے سنا نہیں کہ اُس نے کیا کہا؟ اُنہوں نے عرض کیا: کیوں نہیں (یا رسول اللہ! ہم نے سنا ہے۔) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (اُس اعرابی سے) فرمایا: تُو نے (اللہ تعالیٰ کی رحمت کو) تنگ کر دیا ہے، اللہ تعالیٰ کی رحمت بڑی وسیع ہے، اللہ تعالیٰ نے کل سو رحمتوں کو تخلیق کیا جن میں سے اللہ تعالیٰ نے ایک رحمت (زمین پر) اُتاری، مخلوقات میں سے جن و انس اور بہائم (درندے) اُسی کی وجہ سے باہم شفقت و مہربانی کرتے ہیں جبکہ ننانوے رحمتیں اُس کے پاس ہیں۔ اب تم کیا کہتے ہو کہ یہ زیادہ گمراہ ہے (جسے رحمتِ الٰہی کی وسعت کا علم نہیں) یا اُس کا اونٹ (جو اس کے ماتحت ہے)۔اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو۔آمین

Sharing is caring!

Comments are closed.